خدائی خدمتگار تحریک | دو جلدیں | خان عبدالوالی خان Osho

Regular price $ 900.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

خدائی خدمتگار تحریک | دو جلدیں | خان عبدالوالی خان Osho!

بنجامن فرنیکلن | Bunjabman Franklyn

’’نواب سعد اللہ خاں‘‘ | Nawab Saadullah Khan

He abstains from the influence of any patronizing literary force and keeps himself away from such effect

Reflections of a Concerned Global Citizen

"تعبیر کی غلطی" مصنف مولانا وحید الدین خاں

ستر اور اسی کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے اردو افسانہ رومانویت، سماجی حقیقت نگاری، ترقی پسندی اور جدیدیت سے گزرتے ہوئے ما بعد جدید دور میں داخل ہو چکا تھا۔ اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی اس میں محیت ، اسلوب اور موضوع کی سطح پر واضح تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں ۔ مابعد جدید عہد کوئی تحریک ، رجحان یار دعمل نہیں بلکہ ایک کشادہ دہنی رویہ ہے ۔ یہ رویہ ثقافتی رجحانات پر زیادہ زور دیتا ہے جس کی تہہ میں تخلیق کی آزادی اور معنی پر بٹھائے گئے پہروں سے نجات کا رجحان مضمر ہے۔ ان دینی رویوں نے نئی ثقافتی اور تاریخی صورت حال کے بطن سے جنم لیا ہے جو جدیدیت سے مختلف تو ضرور ہے لیکن اس کی ضد نہیں ہے۔ مابعد جدیدیت ، بیگانگی شکست ذات عدم شناخت، حد درجہ داخلیت اور غیر ضروری ہیئت پرستی سے انحراف کرتی ہے۔ مابعد جدیدیت نے افسانے کے کرداروں کو ان کے چہرے واپس کیے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں کو زنجیروں سے آزاد کیا ہے، انھیں آزاد فضا میں حرکت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، ان کے ثقافتی تشخص کو بحال کیا ہے۔ معاصر عبد میں کئی ایسی آواز میں ابھری ہیں جو مابعد جدیدیت کے حوالے سے بہت اہم ہیں ۔ ان میں ایسی آواز میں بھی شامل ہیں جنھوں نے جدیدیت کے دور میں افسانہ تخلیق کرنا شروع کیا لیکن اس سے زیادہ اثرات قبول نہیں کیے۔ جلد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ جدیدیت پر مبنی افسانوں کا مستقبل روشن نہیں تو انھوں نے افسانوی سمت تبدیل کر لی اور کہانی کے جوہر سے رجوع کر لیا۔ علامت اور استعاریت کو نئی معنویت سے ہم کنار کیا۔ اس نوع کے افسانہ نگاروں کی فہرست طویل ہے جس میں سے ان پانچ آوازوں کو منتخب کیا گیا ہے جو تقسیم ہند (۱۹۴۷ء) سے ذرا پہلے اور بعد تک اُردو افسانے کے پہلے جنم کے پالن ہاروں یلدرم، پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، عصمت چغتائی، غلام عباس، انتظار حسین ، قرۃ العین حیدر کے بعد اُردو افسانے کے دوسرے جنم کے پالن ہاروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ پانچ آوازیں اُردو افسانے کا رُخ حقیقت نگاری سے علامت نگاری کی طرف اور پھر علامت نگاری سے حقیقت نگاری کی طرف موڑنے کے حوالے سے بھی نمائندہ سمجھی جاسکتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں جدید اور مابعد جدید دونوں زمانوں کی فکری بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اس انتخاب اور ترتیب و تزئین میں یقینا کچھ کمی محسوس ہو سکتی ہے لیکن اُردو افسانے کے دوسرے جنم کی ان گواہیوں کا اس نوع کا انتخاب اس سے پہلے کہیں کتابی صورت میں دستیاب نہ تھا سوبطور خاص افسانے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین ، ناقدین اور طلبا کے لیے یہ سعی کی گئی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سید جمیل حیسن

Wali Khan has complimented the British hierarchy for recording those Actions which to them must have been inspired by patriotism

•اختر شیرانی

معروف اشتراکی رہنما معراج محمد خان کی چھٹی برسی کے موقع پر سیاسی، سماجی اور مزدور نمائندوں کا اجتماع آرٹس پاکستان، کراچی میں منقعد ہوا

خواجہ غلام فرید نے اپنے روحانی تجربات کو شاعری کے ذریعے عام لوگوں تک اور اپنے چاہنے والوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور سرائیکی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ۔"کافی"آپ کی شاعری کی سب سے نمایاں صنف ہے، جس کو سرائیکی ادب کا بہت بڑا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی شاعری تصوف اور معرفت کے خزانوں سے بھری ہوئی اور اس میں تصوف کی نمایاں جھلک نظر آتی ہے ۔ زندگی کے معاملات کا کوئی زاویہ ایسا نہیں جس کا احاطہ ان کی شاعری میں نہ کیا گیا ہو ۔ اس حوالے سے خواجہ فریدؒ کے ہاں فکری اعتبار سے ایسا تنوع موجود ہے جو ان کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں دکھائی نہیں دیتا ۔خواجہ فریدؒ کی کافیوں کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاں لفظ و معنی کا ایک اور ہی جہاں آباد ہے ۔ اس تنا ظر میں انہوں نے جو علامتی اور استعاراتی نظام تخلیق کیا ہے اس کی اساس انکے اپنے وسیب پر ہے اور اس وسیب کا پورا عکس ان کے اسلوب و بیان کی توانائی اور رعنائی کے ساتھ ابھرا ہے۔

اگر غور طلب طریقے سے معاصر ناول کی تخلیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ناول کی خارجی اور داخلی ساخت میں تجربات ہوئے اور عموماً تجربات پر بے جاتنقید بھی ہوئی ۔تکنیک کی سطع پر کسی قسم کی پیچیدگی ہمارے لئے بے معنی ہی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ تو شاید کہ قاری اپنے ذہن کو ڈسٹرب کیے بغیر کڑی در کڑی کہانی پڑھنے کا خواہش مند تھا اور ہے ۔اس کے ساتھ پیچیدہ تکنیک ناقدین کے لیے بھی مسئلہ ہے (صرف وہ ناقدین جو کسی خاص تحریک یا نظریے کے پابند ہیں)

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your خدائی خدمتگار تحریک | دو جلدیں | خان عبدالوالی خان Osho orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your خدائی خدمتگار تحریک | دو جلدیں | خان عبدالوالی خان Osho ships.

Need Help?
Questions about خدائی خدمتگار تحریک | دو جلدیں | خان عبدالوالی خان Osho, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for خدائی خدمتگار تحریک | دو جلدیں | خان عبدالوالی خان Osho in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>