بلوچستان کا گوریلا جنرل شیروف | منصور قادر جونیجو | Balochistan Ka Gorilla Genral Sherof Dr Mushtaq Adil: , 11 2021
will be of particular use to scholars and policy-makers interested in understanding the origins of ethnic conflict in South Asia
اچھی سوچ اچھے عمل کی بنیاد ہے اچھے اعمال عظیم کردار کی بنیاد ہیں اور اعلیٰ کردار اچھی شخصیت کے لئے ناگزیر ہے لہٰذا سوچ کا بیج جتنا صحت مند ہو گا اعمال کا درخت اتنا ہی پھلدار اود تناور ہو گا اور شخصیت بھی اتنی ہی طاقتور ہو گی انسانی ذہن میں روزانہ60 ہزار خیالات آتے ہیں دنیا کا کوئی انسان ان خیالات کو کنٹرول نہیں کر سکتا مگر خیالات کو عظیم تر اور خوبصورت احساسات کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور یھی خوبصورت احساسات اچھی زندگی کی بنیاد ہیں
ناول کے دو حصے ہیں۔ اس کا انتہائی اہم ترین حصہ دوسرا ہے جب میرسو کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ سزائے موت سے پہلے کورٹ کے چکر اور جیل کے روز و شب۔ اور کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنی موت کا انتظار کرتے رہنا اور پھر پادری سے گفتگو کرنا۔۔۔۔یہ ناول کا کلائیمیکس ہے مگر اس تک جانے کیلئے آپکو کتاب کا پہلا حصہ پڑھنا ہوگا جو کہ ہر طرح سے دوسرے حصے کی بنیاد ہے۔
صفحات | 388، مجلد کوالٹی
سندھو کتھا کہانی ہے ایک ایسے دریا کی جو صدیوں سے تبت لداخ، گلگت بلتستان سے بحیرہ عرب تک اپنے کنارے بنے والوں کی تہذیبیں اور قدریں سمیٹے رواں دواں ہے۔ صدیوں کی اس روداد کو اس دریا کی زبانی صفحہ قرطاس پر بکھیرنے والے اس کے کناروں کے باسی ہیں۔ دریائے سندھ ڈاکٹر مظفر حسین انجم کے سینے میں لہو ہی کی طرح بہتا ہے اور وہ بچپن سے ہی اس دریائے سندھ کے طلسماتی وجود کے سحر میں گرفتار ہیں۔ ایک ماہر فزیشن سے ایک کہنہ مشق مصنف تک کا سفر مظفر نے اسی سندھو ساگر کے کناروں پر طے کیا ہے۔ ان کے منفرد انداز بیاں نے اس کتاب کو دریائے سندھ پر لکھی گئی تمام کتابوں میں ایک منفرد ود ممتاز مقام عطا کیا ہے۔
میرے اس مقالہ کا مقصود صرف یہ ہے کہ میں خود اس کی صراحت کروں کہ عبدالماجد صاحب کی بتائی ہوئی”یاجوجی قوت“ کیا ہے اور اس کا سراغ ہمیں کس جگہ مل سکتا ہے۔
صفحات 378
فرد کو بدلے بغیر معاشرے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
پنجاب اسمبلی __تاریخ و تہذیب___
پنجاب جس کی دھرتی پر پانچ دریائوں کا پانی بہہ رہا ہے قدیم و جدید تہذیبی رنگ و طرز کا ملغوبہ ہے۔ کئی قدیم شہر اور قصبات نیست و نابود ہو کر قصہ پارینہ بن گئے۔ کئی پرانے ملبے پر نئے شہر اور قصبات آباد ہو گئے اور کئی ایک نئے سرے سے وجود میں آکر بہت قلیل عرصے میں شہرت دوام حاصل کر گئے۔ آج کا پنجاب انہی قدیم اور جدید شہروں کی قوسِ قزح اپنے آسمان پر سجائے ہوئے ہے۔ محقق، مصنف اور سفر نامہ نگار اسد سلیم شیخ کی زیرنظر کتاب نگر نگر پنجاب کے انہی شہروں اور قصبات کی ہی تاریخ و تہذیب بتا رہی ہے۔ مصنف جو اِس سے پہلے چودہ کتب تخلیق کر چکے ہیں اور انہیں تحقیق کے شعبے میں صدارتی ایوارڈ اعزازِ فضیلت بھی مل چکا ہے‘ نے اس اہم تاریخی دستاویز میں پنجاب میں انسانی ارتقاء اور آبادکاری کی کہانی کے علاوہ شہری آبادی کے ابتدائی خدوخال بیان کرنے کے علاوہ ایک فہرست کے ذریعے پنجاب کے قدیم، سلاطین، مغل، سکھ، انگریز اور پاکستان ادوار میں آباد ہونے والے شہروں اور قصبات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ علاوہ ازیں دریا کنارے آباد شہر اور قصبات ان شہروں کی وجہ تسمیہ اور ان کے ساتھ استعمال ہونے والا لاحقہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ کتاب میں پنجاب کے شہروں اور قصبات کے تاریخی و تہذیبی پہلوئوں کے مجموعی جائزے کے بعد اٹک سے لے کر راجن پور، ڈیرہ غازیخان تک پنجاب کے 525 شہروں اور قصبات کی الگ الگ جغرافیائی، سیاسی، ثقافتی اور ادبی تاریخ کے تذکرے شامل کئے گئے ہیں۔ ہر شہر کی وجہ تسمیہ، تاریخ، ادارے، تجارتی و رہائشی مراکز و محلے، تفریحی مقامات، کھانے پینے کی مخصوص اشیاء و شناخت، دستکاری، صنعت و حرفت اور اہم علمی و ادبی شخصیات، ان تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک انسائیکلو پیڈیا کا درجہ رکھتی ہے اور تمام حوالہ جات کو درج کیا گیا ہے۔
شہنشاہ اکبر | Shahenshah Akbar
معروف قانون دان حامد خاں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس بات کی پروہ کیے بغیر کہ دوست ناراض نہ ہو جائیں پورا سچ لکھیں ۔ یہ مشورہ میں نے شریف الدین پیرزادہ کو بھی دیا تھا کہ وہ ملکی اہم واقعات کے عینی شاہد تھے وہ سب کچھ لکھ دیں جو وہ جانتے ہیں مگر وہ بھی لوگوں کی ناراضی کے خوف سے اس پر تیار نہ ہوئے۔